لوگوں کو کون لاپتہ کررہا ہے اس کا تعین کرنا بہت مشکل ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمدبگٹی نے کہاہے کہ آئندہ تین ماہ کیلئے 60نکاتی ایجنڈا بنایاہے جس پر کام کیاجائے گا، بلوچستان میں امن کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی قائم کرینگے جو بلوچستان میں امن وامان ،مختلف شعبوں میں سفارشات مرتب کرکے گورننس کی بہتری کیلئے کام کرینگے ،کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ معصوم جانیں لیں یہ بلوچستان کی جو لڑائی ہے یہ کائونٹر صرف ریاستی اداروں کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ، میڈیا،اداروں ،عدلیہ ،طلباء وطالبات سمیت معاشرے کے ہرفرد نے اس لڑائی کو آن کرناہے ، ناراض بلوچ کی ٹرمنالوجی میڈیا کی بنائی ہوئی ہے جو پاکستان کاآئین کو مانتاہے لیکن غیرمنصفانہ تقسیم سے پسماندگی کاشکار ہواہے اس کو ہم گلے سے لگائیںگے لیکن دہشتگردوں کو نہیں مذہبی شدت پسندوں کے ٹھکانے افغانستان میں ہے اور تھانے بھانے افغانستان سے ہیں ،اور بلوچستان میں آزادی کے نام پر شدت پسندوں کے ٹھکانے بھی افغانستان میں ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی وزراء میرشعیب نوشیروانی ،میرسرفرازچاکر ڈومکی،میرضیاء اللہ لانگو،میر حاجی علی مدد جتک ،سردارعبدالرحمن کھیتران ودیگر بھی موجود تھے ۔میرسرفراز بگٹی نے کہاکہ کابینہ تقسیم ہوچکی ہے ،60پوائنٹ ایجنڈا بنایاہے جس پر آئندہ تین ماہ میں کام کرینگے ،مختلف سیکٹرز پر صوبائی وزراء کے توسط سے کام کرکے گورننس بہتربنانے کی کوشش کرینگے ،امن وامان کی صورتحال کیلئے صوبائی وزیر داخلہ کو ٹاسک دیاہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بیٹھیں اور انفٹ لیں تاکہ عوام اپنے گھر، ہائی ویز ودیگر مقامات پر محفوظ رکھیں ،ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے جس میں اپوزیشن بھی ہوگی کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں ،پارلیمنٹ سپریم ہے اور آئندہ قدم پارلیمنٹ اٹھائے گی مسلم لیگ(ن) سے سردارعبدالرحمن کھیتران ،میرشعیب نوشیروانی ،میر ضیاء اللہ لانگو،علی مدد جتک پرمشتمل کمیٹی مختلف جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرینگے بلکہ بلوچ زعما سے بات کرینگے تاکہ بلوچستان میں امن وامان کامسئلہ حل ہوسکے اگر مذاکرات کے باوجود تشدد کاراستہ نہیں روکاجاسکتا پھر کس چیز سے روکاجاسکتاہے ؟ لاپتہ افراد کامسئلہ ایک بڑا مسئلہ بنادیاگیاہے یا ہے حکومت پاکستان نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر کمیشن بنایاہے اور اس نے 80فیصد کیسز کو حل کیاہے اگر ایک شخص لاپتہ ہو تو اس کا کوئی وجہ نہیں لیکن کوئی لاپتہ افراد کے لسٹ میں ہو اور وہ دہشتگردی میں مارا گیا ،پارلیمانی کمیٹی اس معاملے کو بڑے غور سے دیکھے گی ،لاپتہ افراد کو ایشو بناکر ریاستی اداروں کونشانہ بنایاجارہاہے جو باعث تشویش ہے ،اقوام متحدہ نے طریقہ کار بتایاہے کہ کون لاپتہ ہے ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ان کے ساتھ شامل ہونگے ،انہوں نے کہاکہ اگر کوئی لاپتہ ہے اور کس نے لاپتہ کیاہے تو جب تک تحقیقات نہ ہو تشویشناک ہوگی ،میرنصیب اللہ مری کے الیکشن کیمپ پر حملے میں بچے کی ہلاکت کی مذمت کرتاہوں حکومت اپنی رٹ قائم کرے گی ،کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ معصوم جانیں لیں یہ بلوچستان کی جو لڑائی ہے یہ کائونٹر صرف ریاستی اداروں کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ، میڈیا،اداروں ،عدلیہ ،طلباء وطالبات سمیت معاشرے کے ہرفرد نے اس لڑائی کو آن کرناہے ،کمیٹی میں ہرکوئی اپنا انفٹ دیگی ۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب کسی ملک کے خلاف پراکسی لڑی جاتی ہے اور خاص طلباء کو پراکسی کا پتہ ہوتاہے ،مذہب اور قوم پرستی کے نام پر تشدد کو نیشنل ایکشن پلان میں الگ کیا گیاہے مذہبی شدت پسندوں کے ٹھکانے افغانستان میں ہے اور تھانے بھانے افغانستان سے ہیں ،اور بلوچستان میں آزادی کے نام پر شدت پسندوں کے ٹھکانے بھی افغانستان میں ہے ،فنڈز کہاں سے آرہے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں ، بلوچستان میں مالی مشکلات کاسامناہے ،کم بجٹ کے ساتھ ترقی ناممکن ہے ،ترقیاتی کاموں سے عام بلوچستانی کو مستفید کرناہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی ان ہائوس بات چیت کیلئے بنائی جارہی ہے کہ کون بات چیت کیلئے تیار ہیں کون مذاکرات کرناچاہتاہے یہ پروپیگنڈہ کیاجارہاہے کہ بلوچستان میں معاملات بندوق کے زور پر حل نہیں کیاجاسکتا لیکن مسئلہ کس چیز سے حل ہوسکتاہے ؟ صوبے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے صوبے کو امن وامان کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ،میں مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ ہوں مختلف آرا سامنے آئیں تاکہ اس کے بعد ایک تھینک ٹھیک بنائے کہ کب تک بلوچستان اس مارا ماری کا حصہ ہوگا؟ پاکستان ایک فیڈریشن اور بلوچستان ایک اکائی ہے ہم ایک لائحہ عمل بنا کر وفاقی حکومت کے سامنے رکھے ۔ضروری ہے کہ ہم لائحہ عمل پہلے اپنے گھر میں رکھیں پھر یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے رکھیں ،آئین سب سے بڑا دستاویز ہیں نیشنل ایکشن پلان بھی بڑا دستاویز ہیں ،تشدد کااختیار ریاست کے پاس ہیں ،انہوں نے کہاکہ ناراض بلوچ کی ٹرمنالوجی میڈیا کی بنائی ہوئی ہے جو پاکستان کاآئین کو مانتاہے لیکن غیرمنصفانہ تقسیم سے پسماندگی کاشکار ہواہے اس کو ہم گلے سے لگائیںگے لیکن دہشتگردوں کو نہیں ،ایک مختصر اور ایک بڑے عرصے کی پلاننگ ہوتی ہے ،بدقسمتی سے لوگ ڈیوٹی کیلئے تیار نہیں زیادہ تر خاکروب میر معتبر ہیں ،پی ڈی ایم اے کے پاس مشینری کو استعمال کیاجارہاہے ،کمشنر کوئٹہ کواختیار دیاہے اور وسائل دی ہے کہ وہ شہر کو بہتر بنائیں ،ہم سب میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔میں ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ آیا لیکن کسی چیک پوسٹ پر نہیں پوچھا گیا کہ کون ہو؟ کہاں جارہے ہوں؟جہاں چیک پوسٹوں کی ضرورت ہوگی وہاں ہم چیک پوسٹیں بنائینگے ۔پی ایس ڈی پی کے کتاب میں تمام مسائل کا حل بھی اور یہ تمام مسائل کا جڑ بھی ہے ،بلوچستان اسمبلی کاہرممبر چاہتاہے کہ وہ بلوچستان کو ٹھیک کرے پانچ سال بعد بلوچستان کے عوام کے پاس جانا پڑے گاہم پر روزانہ دبائو ہوتاہے ،سب کے ساتھ مل کر ایک لائحہ بنائیںگے تاکہ گورننس بہترہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں