گڈانی میں‌ٹینڈر منظوری کیخلاف احتجاج، ٹینڈر منسوخ‌کرنے کا مطالبہ

گڈانی (ڈیلی آواز ٹائمز/یاسرملازئی) گڈانی میں‌ٹینڈر منظوری کیخلاف احتجاج، ٹینڈر منسوخ‌کرنے کا مطالبہ کیا تفصیلات کے مطابق

گڈانی میں میونسپل کمیٹی کی جانب سے 6 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ٹینڈر کی منظوری پر شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹینڈر کی منظوری منتخب کونسلرز کو اعتماد میں لیے بغیر کر دی گئی۔

گڈانی کے عوام، نوجوانوں اور کونسلر وڈیرہ امین سنگھور نے اس اقدام کو “غیر قانونی اور غیر شفاف” قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں عوامی نمائندوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو اس کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔

مظاہرین کے مطالبات:
(1) 6 کروڑ 40 لاکھ کے متنازعہ ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے
(2) ٹینڈر سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیے جائیں
(3) معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے چیرمین میونسپل کمیٹی وڈیرہ جان شیر بلوچ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا: “کب تک گڈانی کے فنڈز کو لوٹ کر اپنے نام اور محل سجائے جاتے رہیں گے؟”

عوام کا موقف تھا کہ ترقیاتی بجٹ عوام کی امانت ہے۔ گڈانی میں پانی سمیت بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، اس لیے من پسند اسکیموں کے بجائے سعید برکت گوٹھ تک نئی واٹر پائپ لائن جیسے عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔

آخر میں مظاہرین نے وزیراعلیٰ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گڈانی کے عوام اب اپنے حقوق اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہر فورم پر شفافیت کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

کیٹاگری میں : حب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں