چمن (آوازٹائمز)پاک افغان جھڑپوں کے بعد 10 اکتوبر سے چمن سمیت تمام سرحدیں پیدل آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے مکمل سیل ہوگئے جس میں اپنے کاروبار کیلئے جانے والے سینکڑوں تاجر سرحد کے دونوں جانب پھنس گئے ہیں یہ تاجر صبح بارڈر پار جاتے تھے اور شام کو واپس چمن اتے تھے لیکن جنگ چھیڑ گئی اور سرحد سیل کر دیا گیا تب تک سے تمام تاجر واپس نہ اسکے اور اس کے خرچے بھی ختم ہوکر مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں اسی طرح فریش فروٹ کا سیزن چل رہا ہے جس میں انگور اور انار شامل ہے یہ خراب ہونے سے زمینداروں اور تاجروں کے اربوں روپے کے نقصانات ہورہے ہیں تاجر برادری سراپا احتجاج ہے لیکن پاک افغان احکام کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے مذاکرات کا ایک نیا اور آخری دور ایک بار پھر ثالثین نے شروع کی ہے جس سے تاجروں نے خوش آئند قرار دیکر مثبت نتائج آنے کی امید ظاہر کی ہے دوسری جانب چمن سرحد پر افغان مہاجرین کو وطن واپس جانے کی اجازت دے رکھی ہے اور اج سے طورخم سرحد کو بھی اففانوں کیلئے کھول دیا جس سے چمن کیمپ پر بوجھ کم ہو جائیگا تاہم سرحد 22ویں روز بھی پیدل آمدورفت اور تجارت کیلئے مکمل بند ہے






