کوئٹہ(آوازٹائمز)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چینی کی قیمتوں نے ایک بار پھر نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے ستائے عوام کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر بھر میں چینی 240 سے 250 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت کی جا رہی ہے، جب کہ ہول سیل مارکیٹ میں 50 کلو کا تھیلا 10 ہزار روپے میں بیچا جا رہا ہے۔بازاروں کے دورے پر معلوم ہوا کہ متعدد پرچون فروش فی کلو 240 سے 250 روپے وصول کر رہے ہیں، جس سے شہریوں کے گھریلو بجٹ پر شدید دبا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ اتنی تیزی سے بڑھتی مہنگائی روزمرہ کی بنیادی ضروریات خریدنا بھی مشکل بنا رہی ہے، اور چینی کی قیمت میں بے قابو اضافہ عوام کے لیے ایک اور آزمائش بن چکا ہے۔ہول سیل ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی میں کمی اور طلب میں اضافہ قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ ہیں، تاہم شہری اس مقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے مصنوعی بحران اور ناجائز منافع خوری قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔شہریوں نے کمشنر و ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انتظامیہ کو مصنوعی مہنگائی کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور چینی کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔ عوام نے حکومت بلوچستان سے بھی اپیل کی ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، ورنہ قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔






