کوئٹہ(آوازٹائمز)آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی نے حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں محض 10 روپے فی لیٹر کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے صدر حبیب اللہ خان بادیزئی سیکٹری جنرل حاجی میر اکبر لہڑی اور دیگر عہدیداروں حاجی موسی جان اچکزئی، حاجی نصراللہ دہوار، حاجی ابراھیم، حاجی علی محمد نے کہا ہے۔ کہ موجودہ مہنگائی، بڑھتے آپریٹنگ اخراجات اور ٹرانسپورٹ شعبے پر پڑنے والے مالی دبا کے پیشِ نظر یہ کمی عوام اور ٹرانسپورٹرز دونوں کے لیے کسی صورت ریلیف نہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہوا، جس سے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فی لیٹر کم از کم 100 روپے کی واضح اور مثر کمی کرے تاکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سہارا مل سکے، کرایوں میں کمی ممکن ہو اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے والا دبا کم کیا جا سکے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بلوچستان جیسے وسیع اور پسماندہ صوبے میں طویل فاصلے، خراب سڑکیں اور سیکیورٹی اخراجات پہلے ہی ٹرانسپورٹرز کے لیے بڑے چیلنج ہیں، ایسے میں معمولی کمی مسائل کا حل نہیں۔ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی نے حکومت سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جس میں احتجاجی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی ریلیف ہی عوام اور معیشت کے مفاد میں ہے






