گھر کی چھت، جو کہیں سے ٹپکتی اور کہیں سے جھکیں ہوئی معلوم ہوتی تھی چھت کی لکڑیاں دھوئیں سے سیاہ ہوچکے تھے ۔ ایک پرانی اور میلا کچیلا رلی دروازے پہ لٹکی ہوئی سردی کو روکنے کی جنگ لڑرہی تھی ۔یہ گھر سردی کی راتوں میں کسی قبر کی سی خاموشی کا لباس اوڑھ لیتی ۔ مٹی کی دیواروں پر دھول کی پرانی تہہ یوں جمی ہوئی تھیں کہ کسی کو لگے کہ غربت کا کرب بھی اس سے الگ ہونے کو تیار نہ ہو دیواروں کے کونے پہ مکڑیوں کے جال جھول رہے تھے ۔
چولھے کی انگاروں کو تالی سے ڈھانپ لیا تھا البتہ باری پہ رکھی ہوئی دیا ابھی تک ماتم کررہی تھی ۔
روٹی کے خشک ٹکڑوں پر چوہوں کی کُٹ کُٹ کی سی آواز نیند چھین لے رہی تھیں ہاں جی وہ بھی غربت کا مذاق اُڑا رہی تھی ۔
گھر کے ایک کونے میں بوسیدہ چٹائی پر بلقیس نیم دراز تھی اس کی آنکھوں میں زندگی کی تھکن اور مایوسی کی ایک گہری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ بار بار چھت کو تکتی اور چھت کے کالی لکڑیوں کو سر سے آخر تک گنتے گنتے وہ تھک جاتی مگر کیا کرتی وہ اپنی محرومیوں کا حساب رکھنے کی عادی ہو چکی تھیں۔ بچے اس کے پاس ہی لیٹے تھے کمبل کی جگہ ایک پرانی دھجیوں میں بٹی ہوئی چادر اوڑھے جس کے نیچے بچوں کی نیم برہنہ جسم کانپ رہے تھے۔ رات کا سناٹا اس گھر میں وحشت جیسی شور کی طرح محسوس ہونے لگتا ۔ کبھی بچے دھوئیں سے دھم گھٹ کر سسکیاں لیتے تو کبھی کوئی کھانسی کی تیز آواز سے اس سکون کو توڑ دیتا جو یہاں ویسے بھی عنقا تھا۔ بشیر کاکا جو ایک طرف لیٹا نیند کو زبردستی اپنے آنکھوں میں لانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا اچانک بچوں کے رونے پر اٹھ بیٹھتا ہے اس کی پیشانی پر غصے کی شکنیں نمودار ہوتی ہیں ۔ سراہانے کو برابر کرتے ہوۓ کہا یہ رونا دھونا ختم ہوگا بھی یا نہیں؟ نیند حرام کر دی ہے سب نے ! اس نے جھنجھلا کر غصے سے کہا بیوی نے ایک بے بسی سے اس کی طرف دیکھا اور بچوں کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور تھپکی دیتے ہوئی سہلانے لگی کاش کے اس کے بس میں ہوتی تو وہ اپنی گود سے انہیں دنیا کی ہر تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتی سردی اتنی بے رحم تھی کہ ٹھنڈی ہوا دیواروں میں سرکتی ہڈیوں تک کاٹ کر دل تک پہنچ جاتی ۔۔ بسترے میں پڑے بشیر کاکا نے پانی سے غرارے کیے نسوار کی خمار میں ڈوبی تھوک کو تھوکا اور غصے سے کروٹ بدلتے ہوئے اس نے اپنے چھالے بھرے ہاتھوں کو رگڑ کر پھر انھیں اپنی نظروں سے دیکھا نہ جانے غربت کو کتنی گالیاں پڑیں۔ رات کے سناٹے میں بشیر کاکا بے چین ہو کر باہر گیا اپنی ضرورت کے تحت جب وہ ہوا میں کچھ سکون کے سانسیں لے رہا تھا تو اچانک چارپائی پہ پڑا ہتھوڑا دیکھتا ہے اس کا دل غصے سے بھر جاتا ہے ۔ گھپ اندھیری میں گھس کر بیوی کو غصے میں دھاڑنے لگتا ہے چیختے ہوۓ کہتا ہے کہ اتنا بھی خیال نہیں رکھتیں؟
ڈائن کہ اس میں زنگ لگ جائے گا؟ دل کرتا ہے کہ اس ہتھوڑے سے تیرے بدن کو چور چور کر دوں کہ تیرے وجود کی کوئی پہچان نہ رہے وہ چیختے ہوۓ کہتے ہیں تُو نے میرے آنکھوں میں خون کے آنسوں جما دیئے ہیں ۔ کا کا کی آواز میں اتنی کرب اور شدت تھی کہ بیوی بلقیس جو قریب ہی نیم دراز تھی ایک دم چونک کر اُٹھتی ہیں لرزتی ہوئی ہاتھوں سے دوپٹہ ٹھیک کرنے لگتیں ہیں ۔ بچے بھی اس آواز سے خوف کے مارے بیدار ہو جاتے ہیں اس دوران کمرے میں عجیب سی ایک خاموشی سی چھا جاتی ہے ۔ رات مزید گہری ہو رہی تھی اور اس گہرائی کے ساتھ گھر میں ایک عجیب سی گھٹن بڑھتی جا رہی تھی۔ کاکا نے ایک بار پھر آنکھیں بند کرنے کی ناکام کوشش کی مگر بچوں کی مدھم سسکیاں اور کمرے کے کونے میں بلقیس کے ہلکے ہلکے آنسو اسے نیند سے کوسوں دور رکھتے تھے۔ غربت کی یہ رات ہر کسی کے لیے طویل تھی شاید بہت طویل۔
بشیرکا کا دن کو پتھر کوٹنے قریبی سڑک ہی جایا کرتا تھا ۔
وہ دن بھر پتھروں سے جوجتا رہتا کبھی کسی مزدور کے ساتھ تھوڑی دیر کا سکون یا چاۓ کا کپ کا وقفہ ہوتا ورنہ کاکا جی زیادہ تر خاموشی سے اپنے کام میں محو رہتا تھا ۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ بشیر کاکا پورا دن پتھروں کے درمیان پسینہ بہاتا
مگر جب ٹھیکے دار کے پاس پیسے لینے جاتا تو وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔ کبھی کہتا، ابھی حساب نہیں ہوا، کل آنا۔” کبھی کہتا، “پیسے نہیں ہیں کام ختم ہونے پر دے دوں گا۔ بشیر کاکا بے بس ہو کر واپس لوٹ آتا، لیکن پھر بھی وہ کچھ نہیں کہتا کیونکہ کام ہی تو نہیں تھا۔ پیٹ کی آگ بجھانے کا یہی واحد طریقہ تھا اور وہ جانتا تھا کہ اگر آج نہیں تو کل پھر یہی سڑک، یہی پتھر یہی انتظار ہوگا۔
یہی روز کا معمول تھا غربت بے بسی چولہے کی راکھ جیسی ٹھنڈک ۔
اسی طرح غربت کے دن زخموں کی طرح رِس رہے تھے ۔
ایک دن بشیر کاکا تھکن سے چور گھر کے دروازے پر قدم رکھتے ہی اپنی زندگی کے بوجھ سے اور بھی دب گیا۔ ہاتھ میں پکڑا ہتھوڑا زور سے پھینک دیا وہ دور جا کر گرا ہوں لگا کہ دل کا کوئی حصہ ٹوٹ کر گر گیا ہو۔
پھر پشیمانی میں اسے سنبھال کر اوپر والی کواڑ میں رکھ دیتا ہے ۔ وہ تھکے ہوئے جسم کو بمشکل چارپائی تک لے جاتا ہے جس کی رسیوں نے بھی شاید تھک کے ہار مان لی ہو۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے گردن کے پیچھے باندھ دیں اور ایک لمبی سانس کے ساتھ آنکھیں موند لیں خوابوں میں بھی ہر طرف ہر پل ٹوٹتے خوابوں کی گونج سنی جا رہی تھی اور سکون کی ہر کوشش بے معنی لگ رہا تھا ۔
پھر آنکھیں کھول کر اس نے جیب سے چند معمولی سی نوٹ نکال کر بیوی کے ہاتھ میں رکھ دیئے صرف یہ کہہ سکے بس یہی تھا آج کا حاصل۔
اس کی آواز میں ایک تلخی تھی وہ خود بھی محسوس کر رہا تھا لیکن چھپا نہ سکا۔ بیوی نے چپ چاپ اور مایوسی سے وہ نوٹ لے کر پلو میں باندھ لیئے ۔ بچوں میں سے ایک بچہ جو ہمیشہ بیمار رہتا تھا ماں کی گود میں نیم بے ہوش پڑا رہتا تھا۔ اس کے ہونٹ خشک تھے اور سانسیں بوجھل اصل میں وہ غربت کی اس ہوا میں زندہ رہنے کے لیے ہر سانس کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا۔ ماں کبھی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتی کبھی دودھ پلانے کے لیئے چھاتی سے لگاتی کبھی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتی جیسے کوئی معجزہ مانگ رہی ہو جو کبھی نہیں آئے گا۔ دوسرے کونے میں بڑا بیٹا جس کی عمر لگ بھگ گیارہ سال ہے مگر چہرے پر عمر سے پہلے کی سنجیدگی تھی اپنی بوسیدہ کتاب کو کھول کر کچھ پڑھنے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ روشنی کی کمی اور بھوک کی شدت نے اس کی آنکھوں کو بھی بوجھل کر دیا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ اگر وہ آج ہار گیا تو یہ ہار ہمیشہ کی ہوگی۔ پڑھائی کیوں کر رہا ہے؟ باپ نے سخت لہجے میں کہا۔ یہ سب خواب ہمارے نصیب میں نہیں ہیں بد بخت کل سے میرے ساتھ کام پہ جاؤ۔ یہ کتابیں کچھ نہیں دیں گی بس بھوک بڑھائیں گی اور کچھ نہیں ۔
بیٹے نے ایک مایوسی اور غصے کی نظر ماں پہ دوڑائی مگر کچھ کہیے بغیر کتاب بند کی اور خاموشی سے سر جھکا لیا جلدی سے اس نے ہار مان لیا کہ اس کا خواب صرف ایک بوجھ ہے۔ جسے وہ اپنے باپ کے کندھوں پر اور نہیں ڈال سکتاتھا ۔
دن گزرتے گئے بلکہ کٹتے گئے ان دنوں کی ایک مدھم سی شام نے
آج پھر غربت کے سائے میں خود کو چھپا لیا ہر دن کا سورج بس غم اور اذیت کا پیغام لاتا ہے ۔ جونہی بشیر کاکا گھر پہنچے ان کی جیبوں اور کپڑوں میں خون کے چھینٹے نظر آئے ویسے بھی روز کی محنت نے ان کے جسم سے زندگی کا رنگ چھین لیا تھا مگر آج کچھ زیادہ ۔
بیوی بلقیس نے درد بھری آواز میں پوچھا “کیا ہوا؟ تجھے بھوتار مگر بشیر کاکا کا دل اتنا تھک چکا تھا کہ وہ صرف اتنا کہہ سکے کہ پتھر کوٹتے وقت ہاتھ نیچے آگیا تھا بس معمولی سا زخم ہے ٹھیک ہوجاۓ گا بیوی نے بے خیالی میں بوسیدہ کپڑا کھولنے کی کوشش کی مگر جیسے ہی کپڑا کھینچا کاکا بشیر کی چیخ نکلی ان کے جسم میں ہر رگ سے درد چھلک کر باہر آ گیا ۔ کپڑے میں زخم کے ساتھ ساتھ ناخن بھی چپک کر باہر نکل رہا تھا ان کی تکلیف کا ہر ذرہ اب ان کی آنکھوں میں رِس رہا تھا ۔ زخم کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا
مگر رات کا سناٹا اس درد کا گواہ بن گیا تھا۔ ہر پل ہر لمحہ ان کے جسم میں ایک نئی جلن پیدا کرتا تھا۔ ان کے لیے نیند صرف ایک خواب بن چکی تھی۔ اور اس کے ہر گھونٹ میں زندگی کی تیز دھار تلوار ان کے سینے میں جا کر چبھتی تھی۔ وہ بچے سو رہے تھے ان کی مسکراہٹیں ان کے درد کے سمندر میں غرق ہو چکی تھیں۔ میاں بیوی آگ کے گرد زندگی کی بے رحم ہواؤں میں ایک دوسرے کے کندھے سے سہارا لے کر روتے ہوئے لڑ رہے تھے ہر دن ایک نیا طوفان ان کے دروازے پر آ کر کھڑا کردیتا
ہاتھ کا درد اتنا بڑھ گیا تھا کہ سانس لینا بھی گہرے زخموں کی طرح محسوس ہونے لگا دیکھتے ہی دیکھتے دن رات کی اذیت کچھ دیر کے لیے ٹل گئی مگر اگلے دن پھر وہی ہتھوڑا وہی کام وہی بھوک ۔
بیوی نے روتے ہوئے بہت اسرار کیا کہ آج کام چھوڑ دو، آج خود کو تھوڑی دیر کے لیے سکون دو! مگر بشیر کاکا جانتے تھے کہ یہ درد کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ چولہا کہاں جلتا؟ اور گھر کی بھوک کہاں ٹل سکتی ؟ ان کی تکلیف ان کی تقدیر بن چکی تھی۔ پھر بھی وہ اٹھا اور اسی خون سے سیراب ہوئے ہتھوڑے کو لے کر وہیں روانہ ہو گیا وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس کرب کا سامنا کرنے کے لیے مجبور ہو۔ ہر قدم میں وہ درد تھا ہر سانس میں زہر تھا اور وہ پھر بھی آگے بڑھ رہا تھا۔ زندگی نے اس کے جسم کو توڑ دیا تھا مگر اس کی روح اسے مسلسل دھکیل رہی تھی ۔ وقت گزرتا گیا، مگر بشیر کاکا کا زخم کبھی نہیں بھرا۔ دوا اور دیکھ بھال کے بغیر وہ گہرا ہوتا چلا گیا، جسم کے اندر کی درد کی ایک نئی دنیا آباد ہو گئی ۔ ابتدا میں معمولی دکھ دینے والا زخم اب ایک ناسور بن چکا تھا جس کی گہرائی اور بدبو نے زندگی کے تمام رنگ سیاہ کر دیے تھے۔ خون کا رنگ بدل چکا تھا اور زخم کی تپش نے ہر سانس میں درد کی لہر دوڑائی تھی۔ ہر دن وہی ٹوٹا جسم وہی کچلی ہوئی روح اور ہر رات وہی بے چین دل، جو لمحہ بہ لمحہ اس ناسور میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ یہ زخم کی بدبو اور کرب ناک درد اب صرف جسم تک محدود نہ تھا وہ اس کی تقدیر بن چکا تھا ایک ایسا ناسور جو نہ صرف جسم کو بلکہ دل و دماغ کو بھی کھا رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا مگر پھر بھی وہ اٹھتا اپنی تکلیف کو سینے میں چھپائے اگلے دن کی اذیت کا سامنا کرنے کے لیے مزدوری کی طرف بھاگ جاتا
کئی دفعہ بشیر کاکا نے ہاتھ جوڑ کر ٹھیکے دار سے چھٹی کی درخواست کی تھوڑی دیر کا آرام مانگتے ہوئے لیکن ہر بار جو جواب ملتا وہ اس کے دل میں ایک اور چھرا گھونپ دیتا۔ پر بار پیسے کی کٹوتی کر دی جاتی اس کی تھکن اس کا درد اور اس کی محنت کا کوئی وقار نہ تھا وہ کچلے ہوئے جذبات کے ساتھ خاموشی سے واپس لوٹ آتا کیونکہ جانتا تھا کہ اس کی درخواست صرف مزید ذلت کا سبب بنے گی۔ چھٹی مانگنا اس کے لیے ایک جرم بن چکا تھا اور اس جرم کی سزا ہمیشہ اس کے پیسوں سے لی جاتی تھی ۔
آہستہ آہستہ زندگی کے دن کٹتے جارہے تھے کاکا جی کی طبیعت اور خراب ہوتی جارہی تھی ۔
ایک دن بشیر کاکا کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ بیوی نے مایوس ہو کر انہیں قریب کے ہسپتال لے جانا مناسب سمجھا۔ لیکن ہسپتال پہنچتے ہی وہاں بھی کسی نے ان کے درد کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ علاج تو وہی سرکاری ہسپتالوں والا ہے جو روز ہم دیکھتے آرہے ہیں ۔ڈاکٹروں نے زخم کو نظر انداز کیا کبھی انجیکشن کا کہہ کر ٹال دیا کبھی دوا دینے کے بہانے ۔
بلقیس باجی سراہنے میں تسبیح پڑھ کر روز دعائیں مانگتی ۔
کاکا کا زخم گہرا ہوتا گیا اور تکلیف بڑھتی چلی گئی۔ ایک دن جب درد نے ان کے جسم کو توڑنے کی حد پار کر دی تو ڈاکٹروں کو ہوش آیا آخر کار وہ بتاتے ہوۓ نہیں گھبراۓ کہ زخم میں کینسر کی علامات ہیں۔ بشیر کاکا کی حالت اب اتنی خراب ہو چکی تھی کہ ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ ہاتھ کو کاٹنا ضروری ہے ورنہ زندہ رہنا ممکن نہیں۔
یہ خبر تو بشیر کاکا کی بیوی کے لیے قہر بن کر ٹوٹی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور غم کی ایک نئی لہر دوڑ گئی کیا کرتی بیچاری اس کی دنیا ہی ختم ہو گئی تھی ۔ ایک طرف وہ اپنے شوہر کے جسمانی درد میں ڈوبی ہوئی تھی تو دوسری طرف گھر میں بھوک ہر لمحہ اس پر گزرتا تھا جیسے اس کے دل کی دھڑکنیں بند ہو رہی ہوں۔
لیکن پھر وہی حقیقت وہی تقدیر جو ان کے مقدر میں تھی سب نے حامی بھر لی۔ بشیر کاکا کو یقین تھا کہ ان کا جسم تو ٹوٹ چکا تھا مگر اس کا عزم اور ارادہ ابھی تک مضبوط تھا۔ اس کا جسم ایک اذیت کی تصویر بن چکا تھا مگر اس کی روح نے اسے آخری لمحے تک لڑنے کی ہمت دی۔ بالآخر کاکا بشیر کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔
سات روز بعد ہسپتال سے گھر آۓ۔
صبح کی ماند پڑتی روشنی میں جب ہر چیز ایک مدھم سی ہنر کی چپ میں ڈوبی ہوئی تھی بشیر کاکا اپنے ٹوٹے ہوئے جسم اور مایوس دل کے ساتھ دروازے کے قریب بیٹھے ہاتھ کی پٹیاں تبدیل کررہے تھے ان کی آنکھوں میں غم کی گہری لکیریں اور ایک مسلسل بے بسی کا رنگ تھا۔
ان کے ہاتھ کا کٹا ہوا نشان اب ان کی تقدیر بن چکا تھا اور وہ بس اپنے ستم رسیدہ جسم کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے تھے۔ اسی لمحے میں ان کا بڑا بیٹا بستر سے اُٹھا اور وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ آج اس نے سکول کا بیگ نہیں اٹھایا بلکہ وہ بے سر و سامانی سے ہتھوڑے کے پرانے دستے کو نکال کر اس کے اندر ایک چھوٹا سا نیا دستہ لگا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے ایسا لگتا کہ اس کی مٔٹھی میں محنت کی ایک طویل اور تھکا دینے والی داستان چھپی ہی ہو۔ وہ ایک چھوٹا سا دستہ لگاتے ہوئے تمام گھر کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر محسوس کر رہا تھا اور اس کا دل ہر ہلکے سے حرکت کے ساتھ پھٹ کر گرنے کو تھا۔ چہرے پر غم کی گہری لکیریں اور آنکھوں میں ایک چھپی ہوئی سرکشی تھی۔ اس نے ہتھوڑا پکڑا اور قمیض کی دامن سے آنسو پونچھتے ہوۓ گھر سے نکل پڑا آخر میں صرف یہ کہہ سکے اماں میرۓ لیئے کھانا ضرور رکھنا






