راولپنڈی: چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کے کسی بھی سطح پر کسی سے مذ اکرات نہیں ہو رہے اگر مذاکرات ہوں گے توہم ہر گز نہیں چھپائیں گے ۔ جیل ٹرائل کے دوران دروازے لاک کر دئیے گئے ، میڈیا کو بھی دور رکھا گیا ، ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے ، عدالت بھی ہماری داد رسی نہیں کر رہی ۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس نیب کیس ہے، سائفر کیس نہیں۔ جیل ٹرائل میں پبلک اور میڈیا کی موجودگی ضروری ہوتی ہے تاہم انہوں نے ٹرائل کے دوران دروازوں کو تالے لگا دئیے ۔ میڈیا کو دور رکھا گیا، رپورٹر کو کیس کے متعلق آگاہی بھی فراہم نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے ۔ سیاسی انتقام پر مبنی کیس چلایا جا رہا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ جیسے جیسے گواہ سامنے آئیں گے لوگوں کو پتہ چلے گا کہ اس کیس کی بنیاد فراڈ پر تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اعلی عدلیہ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن ہماری کوئی داد رسی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بہاولنگر واقعہ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا عدالت سے درخواست ہے کہ سینٹ الیکشن کا معاملہ حساس ہے اس پر بینچ تشکیل دے کر سماعت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے ریاست کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ عدلیہ سے بار بار بار کہہ رہے ہیں کہ کیسز لگائے جائیں ۔ انہوں نے کہا بی بی کو زہر دیا گیا ہے ۔ انکے کھانے میں ہارپک ملا کر دیا گیا ۔ انھیں دروازے اور کھڑکیاں بند کر کے کمرے میں ا کیلی رکھا گیا ہے۔ عدالت نے آج انکے شوکت خانم سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے امید ہے اس پر عمل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی تی آئی کے کسی سطح پر کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ اگر مذاکرات ہوے تو ہم اسے چھپائیں گے نہیں ۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں۔






