اسلام آباد،کوئٹہ(آوازٹائمز)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا محمودالحسن قاسمی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی نے غزہ فلسطین میں شدید سردی اور بارشوں کے دوران خیموں اور کھلے آسمان تلے پڑے مظلوم فلسطینیوں کی تشویشناک حالت پر انسانی حقوق کے عالمی دعویداروں کی خاموشی کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔جاری مشترکہ بیان میں رہنماں نے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری، خوراک اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث امت مسلمہ کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی دنیا بالخصوص اسلامی ممالک فوری طور پر سردی سے بچا کا سامان اور خوراکی مواد غزہ منتقل کریں اور امن معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج کی بربریت کا نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے حماس کو اسلحہ ڈالنے کی دھمکیوں کے بجائے پہلے اسرائیل کو امن معاہدے کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطین میں امن فورس کی تعیناتی دراصل اسرائیلی فوج کو تسلیم کرنے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا خطرناک منصوبہ ہے، جس کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے۔رہنماں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی افواج کو کسی امریکی و اسرائیلی سرپرستی میں قائم امن فورس کا حصہ نہ بنایا جائے، کیونکہ یہ منصوبہ فلسطین کے حق خود ارادیت کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کر کے جنگ کو طول دیا اور اب امن فورس کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے رہنماں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی حمایت ترک کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ بندی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ فلسطین میں صہیونی ریاست کی درندگی نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں






