سری نگر(آوازٹائمز)بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے)نے بھارتی پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ کئی ایسے سوشل میڈیا صارفین کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے ہیں جنہوں نے غیر قانونی بھارتی تسلط کے خلاف اور حق خود ارادیت کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے،کئی افراد کے گھروں پر نوٹس چسپاں کیے گئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سی آئی کے نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر علاقے میں ڈیجیٹل جبر کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق قطعی طورپر سلب کر لیا ہے، جو کوئی بھارتی جبر کے خلاف او ر اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودرادت اور ستصواب رائے کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اس کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا فوری اطلاق کیا جاتا ہے۔حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والے بیرون ممالک مقیم کشمیری پناہ گزینوں کیخلاف بھی کالے قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے بھارتی پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کی مدد سے سرینگر اور کپواڑہ ضلع میں ممتاز کشمیری تاجر مبین احمد شاہ، عزیز الحسن عشائی عرف ٹونی عشائی اور رفعت وانی سمیت متعدد کشمیریوں کے رہائشی مکانات پر ضبطی کے نوٹس چسپاں کیے ہیں۔قبل ازیں، سری نگر میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے بھی کئی افراد کے خلاف ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی پاداش میں نوٹس جاری کیے تھے






