زیارت شہدا کے لواحقین کے مطالبات تسلیم کیے جائیں، واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے،نصراللہ خان زیرے

کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کوئلہ پھاٹک پر مانگی، زیارت فیز تھری کے شہدا کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ضلع زیارت کے ڈی پی او، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ اہلکاروں نے ایک منظم سازش کے تحت 45 اہلکاروں کو ایک ویران مقام پر بھیجا، جہاں مناسب حفاظتی انتظامات اور سہولیات موجود نہیں تھیں، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔نصراللہ خان زیرے نے دعوی کیا کہ ہنہ اوڑک، شاہرگ، ہرنائی اور قلعہ عبداللہ کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مسلح گروہوں کو علاقے میں جگہ دی، جبکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے ذریعے علاقے کے معدنی وسائل پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے دھرنے کے شرکا کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے شفاف تحقیقات کرائی جائیں، علاقے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کیا جائے، لیویز فورس کو بحال اور مضبوط بنایا جائے اور ایف سی کو علاقے سے ہٹایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پورے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حکومت کی عملداری دکھائی نہیں دے رہی۔نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ احتجاجی تحریک کو صوبہ بھر میں وسعت دی جا رہی ہے اور پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور زیارت میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ بھی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر جاری دھرنے میں بھرپور شرکت کرکے شہدا کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں