کوئٹہ(آوازٹائمز)جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مولانا حبیب اللہ راشدی، عبدالرحیم صبا، مولانا قائم شاہ، قبائلی رہنما حاجی حاکم مردانزئی، مہتم قاری عطا اللہ عصمت اللہ منعم نے جامعہ نعمانیہ کے زیراہتمام دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کیا۔خطاب میں انہوں نے کہا کہ فلسطین میں امن فورس کی تعیناتی اسرائیلی فوج کی تسلیم اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ ہے۔ پاکستان غزہ امن فورس کا حصہ بن کر اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ نہ کرے۔ صیہونی ریاست کی درندگی اور وحشیت کے سامنے اسلامی ممالک کیوں خاموش ہیں، اس پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی۔مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ امریکی سرپرستی میں غزہ میں اسلامی فوج کی تعیناتی فلسطینی حق خود ارادیت کو چھیننے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین پر عالمی سازش کے تحت دنیا بھر سے اسلام دشمن طاقتیں جمع کر کے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور امریکی جنگ بندی کی قراردادیں ویٹو کرنے کے باوجود آج امن فورس تعینات کی جا رہی ہے۔انہوں نے ملک میں مدارس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدارس نے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے تحفظ اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ حکمرانوں اور اداروں نے ایسا نہیں کیا۔ چند زرخرید ملاں کے ذریعے دینی مدارس کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔خطاب میں مزید کہا گیا کہ مدارس نے امت مسلمہ کو وحدت، انسانیت، تربیت اور تہذیب کی تعلیم دی، اور دینی علوم کی وجہ سے معاشرہ صالح اور نیک معاشرہ بنتا ہے۔ اگر یہ دینی ادارے نہ ہوتے تو امت کو دینِ متین کی صحیح تعلیم فراہم کرنا مشکل ہوتا اور معاشرہ باطل کے جال میں پھنس جاتا






