فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا ،خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا ، نگران حکومت کے دور میں مجھے بھی کمیشن نے بلایا تھا ۔میں کمیشن کے سامنے پیش ہوا تھا ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن کا ایک ممبر کافی دیر مجھ سے بات چیت کرتا رہا ،میں جو بات چیت کرنا چاہتا تھا وہ سننا نہیں چاہتا تھا ۔میں نے ان کو کہا آپ مجھے لکھ کر سوالات بجھوادیں میں لکھ کر جواب دوں گا ۔مجھ سے سوال کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔مجھے کبھی اس کے بعد سوالات نہیں آئے ،فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا ۔انہوں نے کہا انکوائری کمیشن میں جا کر محسوس ہوا آکر غلطی کی ہے۔انکوائری کمیشن میں مجھے کسی قسم کی کوئی سنجیدگی نظر نہیں آئی ۔جنہوں نے رپورٹ بنائی وہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں ۔اس وقت نواز شریف کے خلاف ایک سازش تیار کی گئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ کل آصفہ بھٹو کو پارلیمنٹ میں گالیاں دیں گئیں جس پر مجھے شدید دکھ ہوا ۔حکومت کو فیض آباد دھرنا رپورٹ مسترد کر دینی چاہیے ۔جنرل (ر) فیض اور جنرل (ر) باجوہ کے بیانات کے بغیر کمیشن رپورٹ نا مکمل ہے ۔اس میں سوال ہی سوال ہے لیکن جواب کوئی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو اپنی اپنی جگہ رکھنا شروع کر دیا ہے ۔ہماری حکومت سو فیصد نواز شریف کی گائیڈنس سے چل رہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں