کوئٹہ(آوازٹائمز)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سردی کے آغاز کے ساتھ سبزیوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے شہریوں کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ شہر بھر کی منڈیوں اور بازاروں میں روزمرہ استعمال کی سبزیاں اب عوام کی پہنچ سے دور ہیں، اور انتظامیہ کی عدم نگرانی کے باعث سبزی فروش من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق سبزیوں کی قیمتیں کچھ یوں ہیں: پیاز 100 روپے فی کلو، آلو 100 روپے فی کلو، ایرانی ٹماٹر 60 روپے فی کلو، گھڑی ٹماٹر 300 روپے فی کلو، لہسن 500 روپے فی کلو، ادرک 800 روپے فی کلو، مٹر 300 روپے فی کلو، شلجم 150 روپے فی کلو، لیموں 300 روپے فی کلو، شملہ مرچ 300 روپے فی کلو، سرخ گاجر 100 روپے فی کلو، کالی گاجر 150 روپے فی کلو، سبز مرچ 200 روپے فی کلو، پھول گوبھی 200 روپے فی کلو، پالک 80 روپے فی گڈی، ساگ 80 روپے فی گڈی، دھنیا 20 روپے فی گڈی، پودینہ 30 روپے فی گڈی، بینگن 200 روپے فی کلو، فرازی (فرنچ بین) 250 روپے فی کلو، اور کدو 200 روپے فی کلو۔ان بلند ترین نرخوں نے خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہر سال دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن اس بار صورتحال انتہائی سنگین ہے۔شہریوں نے سبزی فروشوں، ریڑھی بانوں اور ہول سیل ڈیلروں کی من مانیوں پر شدید غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کوئٹہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر قابو پایا جا سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے روزمرہ کی زندگی مزید متاثر ہوگی۔ کوئٹہ کے رہائشی اس وقت شدید اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں اور حکومت بلوچستان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جلد از جلد مثر حکمت عملی سے مہنگائی کا تدارک کرے






