کوئٹہ(آوازٹائمز)کوئٹہ کے مختلف علاقوں سیٹلائٹ ٹاون، عبداللہ ٹان، گول مسجد اور گردونواح میں گیس کی شدید قلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گیس پریشر اس حد تک کم ہو چکا ہے کہ گھروں میں چھوٹا چولہا بھی جلنا بند ہو گیا، جس کے باعث شہری کھانا پکانے سے قاصر ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق سردی میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صورتحال کی بہتری کے لیے کوئی مثر اور سنجیدہ اقدام نظر نہیں آ رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے سرِ شام گیس بند کرنے کو معمول بنا لیا ہے، حالانکہ دو روز قبل مکمل پریشر کے ساتھ گیس فراہم کی جا رہی تھی۔متاثرہ عوام کے مطابق سوئی سدرن مختلف حیلے بہانوں سے گیس کی بندش کو جواز فراہم کر رہی ہے، جبکہ اصل وجہ ناقص انتظامات اور بدترین نااہلی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ ایک جانب گیس دستیاب نہیں، تو دوسری جانب بھاری بلوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شدید سردی میں گیس کی بندش سے بزرگوں، بچوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیٹلائٹ ٹان اور ملحقہ علاقوں میں فوری طور پر بلا تعطل گیس فراہمی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر عوام احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور سخت ردعمل دیا جائے گا






