اسلام آباد ( روزنامہ آواز ٹائمز /جہانگیر خان) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ آخری مراحل میں ہے، اسحاق ڈار نے دن رات اس حوالے سے کام کیا اتحادی حکومت کوایک سال ہوگیا ہے ، ایک عمومی تاثر تھا یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکے گا ، ایک سال بحرانوں، چیلنجز کا اکٹھے مقابلہ کیا،اختلاف رائے ہوتا ہے، مگر ہم کبھی بات مانتے ہیں کبھی منواتے ہیں یہی جمہوریت کا حسن ہے ،مخالفین کو لالے پڑے ہیں یہ اتحاد کیوں نہیں ٹوٹا،تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ عدلیہ ایسی بات کرے ، آج بار کونسلز بھی قانون کی عملداری کے ساتھ کھڑی ہیں ،،معاملات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں، سب نے مل کر اس کشتی کو آپریشنل رکھا ہے، میں تنہا کچھ نہیں ہوں، دنیا میں ایسا نہیں ہوا ابھی قانون اصل شکل میں نہیں آیا اس کو تین رکنی بنچ نے کہا نافذ العمل نہیں ہوگا، آج بار کونسلز ہماری محبت نہیں قانون کی عمل داری کی بات کر رہی ہیں، بار کونسلز نے بھی کہا غلط فیصلہ ہوا، اس حوالے سے بھی اتحادی حکومت نے بہت معاونت کی۔ شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ کامران مرتضٰی، اعظم نذیر تارڑ نے معاونت کی، مخالفین کو لالے پڑے ہیں یہ اتحاد کیوں نہیں ٹوٹا، مخالفین کو لالے پڑے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے علیحدہ راستہ کیوں نہیں اپنایا، اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے، آئی ایم ایف کا معاہدہ آخری مراحل میں ہے، اسحاق ڈار نے دن رات اس حوالے سے کام کیا۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادیوں کا تعاون نہ ہوتا تو یہ حکومت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی تھی سب اتحادیوں نے مشاورت میں ہمیشہ موثر کردار ادا کیا ہے عمومی تاثر یہ تھا کہ یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکے گا اتحادیوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے مگر اتحادیوں نے تمام معاملوں میں ہمیشہ موثر اور کلیدی کردار ادا کرکے حکومت کاساتھ دیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال تک بحرانوں کا سامنا رہا مگر اتحادیوں کا تعاون مثبت رہا ہم کبھی بات مانتے ہیں او ر کبھی منواتے ہیں یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ بحرانوں کا سامنا کیا مگر ہم کبھی بات مانتے ہیں اور کبھی منواتے ہیں یہی جمہوریت کاحسن ہے اتحادیوں کا تعاون نہ ہوتا تو یہ حکومت کامیاب نہ ہوسکتی تھی جو ہورہا ہے تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ عدلیہ ایسی بات کرے آج بار کونسلز بھی قانون کی عملداری کے ساتھ کھڑی ہیں بار کونسلز نے بھی کہا ہے کہ یہ غلط اور اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس فیصلہ ہوا ہے اتحادیوں نے خلوص اور دلجوئی سے اس مشکل وقت میں تعاون جاری رکھا یہ مراحل اس بات کی گواہی ہیں کہ اتحادی دل سے کوشاں ہیں کہ ملک کو مسائل سے نکالا جائے ہمارے مخالفین کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ اتحاد ابھی تک قائم کیسے ہے اس اتحاد کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔وزیر اعظم نے کہا آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ اللہ کرے ایک نتیجہ تک پہنچے، اسحاق ڈار نے نیندیں حرام کرکے اس کیلئے کوششیں کی ہیں انشاء اللہ اس کشتی کو کنارے لگائیں گے یہ خلوص ملک کی بہتری کیلئے ہے ۔ہمارے سپہ سالار نے بھی اس حوالے سے بہت زیادہ کاوشیں کی ہیں ۔قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا، جس میں مرحوم وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کے حادثے میں انتقال پر رہنماؤں کی جانب سے اظہار افسوس کے ساتھ دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ و زیر اعظم ہاؤس میں ہونے والا اجلاس دو گھنٹے جاری رہا جس میں پارٹی رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا، پیپلز پارٹی نے اجلاس میں مذاکرات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے متعلق بریفنگ دی۔






