اپوزیشن کا بلوچستان حکومت سے فوری استعفے اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد (ڈیلی آوازٹائمز)تحریک تحفظ آئین پاکستان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، سانحہ زیارت اور دیگر حالیہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے دورے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان بھی کیا ہے۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی صورتحال، آئین و قانون کی حکمرانی، عدلیہ و میڈیا کی آزادی، لاپتہ افراد، سیاسی قیدیوں کے حقوق اور امن و امان کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، علامہ راجہ ناصر عباس، لطیف کھوسہ، مصطفی نواز کھوکھر اور دیگر رہنماں نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن اپنی عوامی تحریک کا آغاز بلوچستان اور بالخصوص سانحہ زیارت سے کرے گی اور تمام مرکزی قیادت کوئٹہ جا کر شہدا کے لواحقین اور احتجاجی دھرنے کے شرکا سے ملاقات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ زیارت اور دیگر حالیہ واقعات میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ میں ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متعلقہ حکام فوری طور پر استعفی دیں یا انہیں عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل طاقت، گرفتاریاں اور تشدد سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، انصاف اور آئینی حقوق کی فراہمی سے حل ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پشتون اور بلوچ عوام نے موجودہ پالیسیوں کے خلاف متفقہ فیصلہ کر لیا تو بلوچستان میں حکومت کرنا مشکل ہو جائے گا۔پریس کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد نے بلوچستان حکومت پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اقتدار میں رہنے کا اخلاقی اور سیاسی جواز کھو چکی ہے۔ رہنماں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت، ہنہ اوڑک اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انتظامی و سیکیورٹی ناکامیوں کا بھی احتساب کیا جائے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان عملی طور پر “نو گو ایریا” بنتا جا رہا ہے، جہاں عوام، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو آزادانہ سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مذاکرات، وسائل پر مقامی آبادی کے حق کے اعتراف اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے آئینی حل سے ممکن ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے عدلیہ کی آزادی، آئینی ترامیم اور سیاسی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے سامنے تمام شہری برابر ہونے چاہئیں اور کسی بھی شخصیت کو قانون سے بالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو آئین اور قانون کے مطابق حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ بھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں