کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز) حکومت بلوچستان نے گندم کی زخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے محکمہ خوراک کی جانب سے جاری گندم کی خریداری مہم میں رکاؤٹ پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائیگی اس بات کا فیصلہ چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کی زیر صدارت منعقدہ گندم کی خریداری کی پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا سیکریٹری خوراک گندم خریداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کمشنر نصیر آباد نے اجلاس کو بریفنگ دی اجلاس میں گندم پیدا کرنے والے زمیندار وں کی جانب سے گندم زخیرہ کرنے اور مہنگے داموں بیچنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کے باوجود زمینداروں کی گندم بیچنے میں ہچکچاہٹ نا قابل قبول ہے اجلاس میں نصیر آباد ڈویژن میں گندم خریداری کے لی? عائد دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کرنے اور امدادی قیمت پر محکمہ خوراک کو گندم نہ بیچنے والے زمینداروں کی گندم بحق سرکار ضبط کرنے کا فیصلہ کیا گیاجبکہ گندم کی زخیرہ اندوزی کرنے اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کے لی? قانون سازی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا سیکریٹری خوراک نے آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر اس سال صوبائی حکومت نے بروقت اور جامع منصوبہ بندی کے ساتھ گندم خریدنے کی مہم کا آغاز کیا ہیاور ایک ملین بوری گندم کی خرید کا ہدف مقرر کیا گیا ہے چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ گندم پیدا کرنے بڑے زمینداروں کو رضا کارانہ طور پر امدادی قیمت پر گندم کی فروخت پر قائل کیا جا? گندم کی زخیرہ اندوزی کا فائدہ بڑے زمینداروں کو جبکہ نقصان چھوٹے زمینداروں کو ہوگاچیف سیکریٹری نے کمشنر نصیر آباد کو محکمہ خوراک کی ٹیموں سے مکمل تعاون کرنے اور زخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاتخصیص کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی جبکہ انہوں نے گندم کی خرید اور ترسیل کے نظام کی مانیٹرنگ کا موثر میکینزم قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔






