ضلع مہمند (روزنامہ آواز ٹائمز/رحمت شاہ مہمند ) آئمہ کرام و خطیب مساجد کو ماہانہ اعزازیہ یکم مئی تک دی جائے، بہ صورت دیگر ہم احتجاجی تحریک شروع کریں گے.
ان خیالات کا اظہار مولانا محمد عادل، مولانا مسیح اللہ، مولانا مبشر، مولانا حاجی گل اور مولانا جابر نے مہمند پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا.
انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کی طرف سے دیگر قبائلی اضلاع کی طرح 2021 سے 2023 تک ضلع مہمند کے 169 آئمہ کرام و خطیب مساجد کو ماہانہ اعزازیہ فی کس دس ہزار روپے مقرر ہوگیا تھا اور ضلع مہمند کے انتظامیہ کو یک مشت چارکروڑ 92 لاکھ روپے دئے گئے ہیں. اور انہیں یہ ہدایت کی گئی کہ یہ اعزازیہ تین الگ الگ قسطوں میں فراہم کی جائے مگر ہمیں آج تک فقط 90 ہزار روپے فی کس ملے ہیں. جبکہ دیگر اضلاع کے آئمہ مساجد کو فی کس ایک لاکھ اسی ہزار روپے بذریعہ اکاونٹ دیے گئے ہیں.
آئمہ مساجد کا مزید کہنا تھا۔ کہ ہم بھی گھر بار اور بچے رکھتے ہیں اور ساتھ ہی رمضان اور عید بھی مشکلات میں گزرےگا. لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں بقایا اعزازیہ بھی بروقت دی جائیں.
انہوں نے انتظامیہ کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ۔ کہ یکم مئی تک اگر ہم کو اپنا بقایا اعزازیہ نہ دیا گیا تو ہم پولیوسمیت دیگر حکومتی پروگراموں سے بائیکاٹ اور باقاعدہ احتجاج کیلئے اپنے مقتدیوں کے ہمراہ روڈ بھی بند کریں گے ۔ اور اپنے خطبوں میں بھی غیر مساوی سلوک عوام کے عدالت میں پیش کریں گے
آئمہ مساجد نے کہا۔ کہ محکمہ اوقاف نے ہمارا اعزازیہ یکمشت انتظامیہ کو دیا ہے تو ہمیں کیوں نہیں مل رہا. ضلع مہمند کے آئمہ کرام کے ساتھ یہ غیر مساوی سلوک ہورہا ہے دیگر قبائلی اضلاع میں ایسا کچھ بھی نہیں، صرف ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ رکھا جارہاہے.
اگر انتظامیہ نے دیگر آئمہ مساجد کو اس میں شامل کیاہے تو ان کےلیے محکمہ اوقاف سے مطالبہ کرلیں






