چمن، شائستہ پشتون کلب نے شاندار کارکردگی کے بعد زور آور کلب کوئٹہ کو 1-2 سے شکست دے دی

چمن (ڈیلی آواز ٹائمز/احسان اللہ اچکزئی)چمن کھیلوں کے میدان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں کے کھلاڑیوں نے وسائل کی کمی کے باوجود قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ منشیات کے خلاف اس جنگ میں اج بھی کھیلوں کے میدان اباد ہیں جہاں ہر روز عزم اور حوصلے کی نئی کہستانیں رقم ہوتی ہیں۔ اسی سلسلے میں خطے میں فٹبال کے فروغ کے لیے آل چمن ٹاپ 16 عبدالغفار خان فٹبال ٹورنامنٹ” کا شاندار افتتاح ہوا
​افتتاحی میچ انتہائی سنسنی خیز اور چست رہا، جس نے شائقینِ فٹبال کے دل جیت لیے
​ شائستہ پشتون کلب بمقابلہ زور آور کلب کوئٹہ کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوا جوکہ
​ شائستہ پشتون کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زور آور کلب کوئٹہ کو 1-2 سے شکست دے دی۔
​میچ کے مہمانِ خصوصی نامور قبائلی رہنما عبدالغفار خان تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملا کر حوصلہ افزائی کی اور ان کے ساتھ یادگاری گروپ تصاویر بھی بنوائیں۔
​ تقریب میں حیات اللہ انٹرنیشنل، سول سوسائٹی کے نمائندے عبدالرازق خان، قدرت اللہ، نعمت خان، اور صمد خان سمیت دیگر شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔
​ ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے فرائض آرگنائزر فضل الرحمن نے سرانجام دیے، جبکہ میچ کی دلکش اور جاندار کمینٹری کے فرائض عزیز میاں نے ادا کیے، جس نے کھیل کے جوش کو مزید دو آتشہ کر دیا۔

​چمن کے کھلاڑیوں کا قومی ٹیموں اور مختلف ڈیپارٹمنٹس کا حصہ بننا فخر کی بات ہے، لیکن دوسری طرف سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی غفلت اور عدم توجہ ایک سنگین المیہ بنی ہوئی ہے
سہولیات کے فقدان کے باعث کھلاڑی سخت اور کچی کنکریوں والے میدانوں پر کھیلنے پر مجبور ہیں۔
​ ناقص گراؤنڈز کی وجہ سے نیشنل اور انٹرنیشنل سطح کے باصلاحیت کھلاڑی اکثر شدید انجریز کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا شاندار کیریئر وقت سے پہلے ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔

​افتتاحی تقریب کے موقع پر کھلاڑیوں، مہمانوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ
​ چمن کے اسکول گراؤنڈز اور دیگر مرکزی کھیلوں کے میدانوں میں گراس روٹ لیول پر یا ارٹیفیشل ٹرف (Artificial Grass) لگائی جائے۔تاکہ کھلاڑیوں کا کیریئر بچایا جا سکیں
​ کھیلوں کے محکمے کو چاہیے کہ وہ غفلت کا مظاہرہ چھوڑ کر کھلاڑیوں کو محفوظ اور جدید سہولیات فراہم کرے
​ کھلاڑیوں کے روشن مستقبل اور کیریئر کو بچانے کے لیے فوری طور پر بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں